اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق آج اسلامی جمہوریہ ایران کے دار الحکومت تہران میں صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی کی شرکت کے ساتھ دنیا تشدد اور انتہاپسندی کے خلاف موضوع پر بین الاقوامی کانفرنس کا آغاز ہوا، اس کانفرنس میں چالیس سے زائد ممالک کے حکام اور دانشمور شریک ہیں ۔ صدر مملکت نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اڑسٹھویں اجلاس میں" دنیا تشدد اور انتہاپسندی کے خلاف" کا نظریہ پیش کیا تھا۔ جس کو عالمی سطح پر سراہا گيا تھا۔ اور اس کے بعد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اسی نام سے ایک قرارداد بھی منظور کی تھی۔ اس کانفرنس کےنتائج اقوام متحدہ کو بھیجے جائیں گے اور اس کانفرنس میں جو قابل عمل تجاویز سامنے آئيں گی ان پر عملدرآمد کیا جائے گا۔
اس اجلاس کی افتتاحی تقریب سے اپنے خطاب میں صدر مملکت نے دنیا میں بڑھتے ہوئے تشدد و بدامنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس سلسلے میں مشترکہ فہم و ادراک کی ضرورت پر تاکید کی۔ ہمارے ساتھی نے اس موضوع پر ہم پاکستان کے دانشور ثاقب اکبر سے گفتگو کی اور ان سے پہلے یہ جاننا چاہا کہ عالمی سطح پر رونما ہونے والے دھشتگردی کے واقعات اور دھشتگردانہ اور انتہا پسندانہ کاروائیوں کے تناظر میں تہران کانفرنس کی کتنی اہمیت ہے؟ اس پر ان کا کہنا تھا۔
جنگ اور دہشتگردی نے مشرق وسطی کے علاقے کو تشدد و بحران کے مرکز میں بدل دیا ہے۔ گیارہ ستمبر کے واقعات کے بعد دہشتگردی کے خلاف جنگ کے بہانے افغانستان پر امریکہ کا حملہ اور پھر تین برس بعد عراق پر قبضے کے بعد تیرہ برس گذر جانے کے بعد اب مشرق وسطی کو ایک بار پھر مختلف مسائل کا سامنا ہے جس کی بناء پر علاقائی اور عالمی سطح پر مشکلات پیدا ہوگئی ہیں۔ ان تمام برسوں کے دوران ایران، دہشتگردی کے سلسلے میں مغرب کی دوہرے معیار کی پالیسیوں کے نتائج پر ہمیشہ خبردار کرتا رہا ہے لیکن امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے اس جانب توجہ نہیں دی اور اپنے مفادات کے حصول میں لگے رہے جس کا نتیجہ اس وقت داعش جیسے انپہا پسند تکفیری گروہوں کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ اگر اس سے پہلے سنجیدہ طریقے سے اس کے سدباب کی کوشش کی جاتی تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتے تاہم اب جبکہ دھشتگردی مسلط کی گئی ہے تو پھر اس سے نمٹنے کے طور طریقون کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے اور اس کیلئے سب سے پہلے ہمیں اس قسم کی سوچ و فکر کا مقابلہ کرنے کیلئےاشتعال انگیزتقریروں سے اجتناب کرنا چاہئیے، فتنہ پروروں کے مقابلے میں ہوشیاررہنا چاہئیےاور مختلف اسلامی ممالک کے مابین پرامن رویے اور باہمی تعاون کو فروغ دینا چاہئے۔ البتہ اس درمیان اہم نکتہ یہ ہے کہ اس کانفرنس میں شرکت کرنے والے مندوبین نے متفقہ طور پر بے گناہ اور عام شہریوں کے قتل کو جرم قرار دیتے ہوئے اس بات پر تاکید کی کہ شیعہ اورسنی مسلمانوں پر حملے دین مبین اسلام کے خلاف ہیں۔
حالیہ چند برسوں میں دھشتگرد تکفیری گروہ داعش نے شام اور عراق میں ان ممالک کے عوام کے خلاف کچھ اس قسم کا ظلم و ستم کیا جو نہ فقط دین مبین اسلام کی تعلیمات کے خلاف ہے بلکہ انسانیت سوز اور انسانیت کے بھی خلاف ہے۔ لہذا دھشتگردی اور تکفیری فکر سے مقابلہ کرنے کے حوالے سے تہران کانفرنس، داعش جیسےتکفیری سوچ رکھنے والے گروہوں کا مقابلہ کرنے کیلئے جو اسلام کے خلاف اور انحرافی سوچ و فکر کےمالک ہیں ایک اہم اور سنجیدہ اقدام شمار ہوتا ہے اور ساتھ ہی ان ممالک کو بے نقاب کرنے کیلئے جو درپردہ تو داعش اور دھشتگرد گروہوں کی حمایت اور مالی امداد کرتے ہیں لیکن نعرہ دھشتگردوں کی سرکوبی کا لگاتے ہیں۔ اسی وجہ سے ان کے قول و فعل میں پائے جانے والے تضاد کی وجہ سےعصر حاضر میں تکفیریت جس بڑے پیمانے پر پوری طاقت اور لاؤ لشکر کے ساتھ سامنے آئی ہے اور جس طرح اسے بعض حکومتوں اور استعماری طاقتوں کی سرپرستی حاصل ہوچکی ہے، اس کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جانا بہت ضروری ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران نے ہمیشہ علاقے کے عوام کے مطالبات کی حمایت کی ہے اور وہ علاقے کے ملکوں میں ہر قسم کی فوجی مدا خلت سے دور ہے اور بین الاقوامی اصول و ضوابط کے دائرے میں دہشت گردی سے مقابلہ کرنے میں، عراق اور شام کی حکومت وعوام سمیت علاقے کےدیگر ملکوں کی بھی مدد کر رہا ہے۔
.......
/169